کامیاب پرسکون زندگی کا
کامیاب پرسکون زندگی کا نیا رخ،،،،،!
جانے کیوں بعض رشتوں میں کڑواہٹ بھری رہتی ہے،
یہ کڑواہٹ کھبی تواپنی ہی وجہ سےبھرجاتی ہیں،
اورکھبی دوسرےبھرنےمیں اہم کردار ادا کرتے ہیں،
یہ نازک رشتےساس،بہو،نند،بھاوج، دیور، اورمیاں بیوی کے ہوتے ہیں،
اگرہرمعاملےمیں عقلمندی اورسمجھداری کامظاہرہ کیاجائے تو یہ نازک رشتے خونی رشتوں سے بھی زیادہ پیارے لگنے لگتے ہیں،
ان رشتوں میں خرابیاں چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی پڑ جاتی ہے، اور سنگین صورتحال اختیار کرلیتی ہے،
اورمعاملہ طلاق،علیحدگی،اور الگ گھر تک پہنچ جاتاہیں،
اوربعض اوقات شوہر کسی ایک جانب جھکاؤ کردیتا ہے تو دوسرا فریق ناراض ہوجاتا ہے،!
بات صرف اپنی غلطی کے اعتراف کی ہے، اگر انسان غلطی کااعتراف کرنا سیکھ جائے تو 90%فیصد معاملات سلجھ سکتے ہیں، مثلاََ بعض اوقات اس بات پر جھگڑا ہوجاتا ہے کہ کھانا ٹائم پر نہیں بنا،
اب بیوی کہتی ہے کہ میں مشین ہوں جو سارے کام بھی کرو اور ٹائم پر کھانا بھی بناؤ،،!
پھر بچوں کی دیکھ بھال میں کون میرا ساتھ دیتا ہے،
آپ تو بس حکم چلاتے رہتے ہیں،
بات بڑھتےبڑھتے کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے، اگر شوہر کے وقت پر کھانا نہ بننے کے جواب میں بیوی یہ کہہ کہ غلطی ہوگئی، وقت کااحساس نہیں ہوا، یا میں مصروف تھی،
کہہ دےتو بات لمبی ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی،
جس طرح بہو اپنےگھر میں اپنے بہن بھائیوں اور والدین کی خدمت کیا کرتی تھی.
اسی طرح ساس اگر کوئی کام کررہی ہے تو بہو کا اخلاقاً فرض بنتا ہے کہ وہ کہے امی لائیے میں یہ کام کردیتی ہوں، آپ نے ساری عمر گھر کا کام کیا ہے،
اب ہمیں کام کا موقع دیں، تو ساس کو بھی بہو بیٹی لگے گی، بہو کھانا بناتی ہے کھانےمیں کوئی کمی رہ جائے تو ساس بجائے ڈانٹ ڈپٹ کے پیار سے کہے بیٹی نمک کم ہے یا مصالحہ تیز ہے،
تو جواب میں بہو بھی پیار سے غلطی مانتے ہوئے یہ کہے کہ ذھن میں نہیں رہا یا کچھ بھی پیار سے کہہ دے،
اگربہولال پیلی ہوکر یہ کہےکہ مجھےتم ایساہی کھانا بنانا آتا ہے،
توایسے رشتے کھبی پائیدار نہیں رہتے، اگر والدین بیٹی کو اچھی تربیت، اچھےطورطریقےسیکھا کر رخصت کریں، تو لڑائی جھگڑےکی نوبت نہیں آتی، اور بیٹی ہر رشتے کو نبھاتی ہیں،
چاہئے وہ رشتہ بیوی کا ہو، بہوکاہو، بھابی کا ہو، یادیورانی جیھٹانی کا، یہ ضروری نہیں کہ اچھے خاندان اور اچھے جہیز سے ہی بہو سسرال کے دل جیت سکتی ہیں،
بلکہ اچھےطورطریقوں سے سسرال میں نام پیدا کرلیتی ہیں، گھر کے معاملات گھر میں ہی نبٹالئے جائیں تو رشتے بھی برقرار رہتے ہیں اور زندگی بھی خوشگوار رہتی ہے، سسرال والوں کوبھی چاہئےکہ بہو کےجہیز کو لیکر جھگڑا نہ کریں،
بلکہ یہ سوچئے کہ خاندانی بہو نصیب والوں کو ملتی ہے، ایک اہم مسئلہ جو تقریباً ہر ماں کو لاحق ہے کہ ان کی اپنی بیٹی تو شوہر کے گھر خوش ہو، اور اس کی ہر خواہش اس کی سسرال والے پوری کریں،
اور اگر ان کے گھر کسی اور کی بیٹی بیاں کر آجائے اور شوہر نامدار اس بہو کی کوئی جائز خواہش پوری کردیں، تو ساس پورے گھر میں ہنگامہ مچادیتی ہے کیا وہ کسی کی بیٹی نہیں،،؟
آپ کی بیٹی کا گھر خراب ہونے پر آپ کا دل دکھتا ہے، تو دوسرے کی بیٹی کا گھر خراب کرنے پر ان کے ماں باپ دل نہیں دکھے گا،
Comments
Post a Comment